جسٹس سردارمحمد رضا خان کا سوانحی خاکہ، بطور جج سپریم کورٹ کئی تاریخ ساز فیصلے دے کر قانون و آئین کو سربلند کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اسلام آباد (بیورو رپورٹ) پوری قوم کے اعتماد اور تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے مقرر ہونے والے نئے چیف الیکشن کمشنر، جسٹس ریٹائرڈ سردار محمد رضا خان کا تعلق گلیات (ایبٹ آباد) کی یونین کونسل نملی میرا سے ہے۔ سردار رضا محمد خان10 فروری  1945 کو نملی میرا (گلیات) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام سردار محمد یوسف تھا۔ جسٹس سردار محمد رضا خان نے ابتداتی تعلیم ایبٹ آباد میں حاصل کی اور1958 میں گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 2 ایبٹ آباد سے  میٹرک کیا۔1962 میں گورنمنٹ کالج ایبٹ آباد سے گریجویشن کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے 1965 میں ایم اے اکنامکس (معاشیات) اور 1967 میں ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی ۔ انہوں نے 1968 میں پی سی ایس (جوڈیشل برانچ) میں امتحان پاس کیا اورسول جج کے طور پر تقرری پائی۔ جس کے بعد وہ صوبہ سرحد میں سول جج، سنئیرسول جج، اورایڈیشل ڈسٹرکٹ و سیش جج کے طور پر خدمات دینے کے بعد 1979 میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مقرر ہوئے۔1985 میں وہ بطور جوڈیشنل کمشنرشمالی علاقہ جات تعیناتی کے دوران امریکا گئے اور وہاں کے قانون کا مطالعہ کیا۔ انہوں نے کسٹمز، ٹیکسیشن اور انسداد سمگلنگ کے خصوصی جج کے طور پر بھی خدمات دیں۔ 1993 میں ان کوپشاور ہائیکورٹ میں بطور ایڈیشنل جج اور بعد ازاں 1995 میں مستقل جج تعینات کیا گیا۔ جسٹس سردارمحمد رضا خان 25 اپریل 2000 کو پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بنے۔ اس عہدے پر رہتے ہوئے انہوں نے دو بار بطور قائمقام گورنر، صوبہ سرحد بھی خدمات سر انجام دیں۔ 2002 میں ان کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا جہاں انہوں نے 8 سال خدمات سر انجام دیں۔اس دوران انہوں نے دو بار قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان اور قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کے طور پر خدمات سر انجام دیں۔ وہ فروری 2010 میں بطورجج سپریم کورٹ آف پاکستان ریٹائر ہوئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ان کا نام کئی اہم عہدوں کے لئے تجویز کیا گیا تاہم اس پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ یا انہوں نے خود معذرت کر لی۔ مئی 2014 میں اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس تصدق حسین جیلانی نے ان کا نام وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس کے طور پر نامزد کیا جس کی بعد میں منظوری دے دی گئی۔وہ تاحال اسی عہدے پر کام کررہے ہیں۔ جسٹس سردار محمد رضا خان انتہائی دیانتدار اور اہل جج کی شہرت رکھتے ہیں۔ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے دوران بطور جج انہوں نے کئی اہم فیصلے دئیے اور ملک میں آئین و قانون کی سر بلندی قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔2007 میں وہ اس بنچ میں شامل تھے جس نے 6 اکتوبرکے صدارتی انتخابات سے قبل پرویز مشرف کی قابلیت سے متعلق کیس فنی بنیا پرمسترد کر دیا تھا تاہم جسٹس رضا 7 رکنی بنچ کے ان 3 ججوں میں شامل تھے جنہوں نے فیصلے سے اتفاق نہیں کیا تھا اور اپنے اختلافی نوٹ میں انہوں پرویز مشرف کو صدارت کے عہدے کے لئے نااہل قرار دیا تھا۔ وہ اکتیس جولائی 2009 کے  تاریخ ساز فیصلہ دینے والے ججوں اور این آر او کے خلاف فیصلہ لکھنے والے بنچ میں بھی شامل تھے ۔ انہوں نے این آر او جاری کرنے پر پرویز مشرف کے خلاف کارروائی کرنے کا بھی کہا تھا۔ وہ ان ججوں میں  بھی شامل تھے جنہوں نے 3 نومبر 2007 کی شام کو پرویز مشرف کی ایمرجنسی اور پی سی او کو غیر ائینی قرار دیا تھا اور پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکا ر کر دیا تھا تاہم بعد میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہونے کے بعد اس وقت کے وزیر قانون فاروق نائیک کے فارمولے کے تحت انہوں نے 1973 کے آئین کے تحت دوبارہ حلف اٹھا کر نئے سرے سے سپریم کورٹ کے جج کی ذمہ داریاں سمبھالی تھیں ان کے ساتھ اس طرح دوبارہ حلف اٹھا کر سپریم کورٹ کے جج کے طور پر فرائض سمبھالنے والوں میں سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی اور موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس ناصر الملک بھی شامل تھے، جسٹس جیلانی نے دوسرے دو ججوں کے ساتھ 4 ستمبر 2009 کواور جسٹس سردار محمد رضا خان اور جسٹس ناصر الملک نے 2دیگر ججوں کے ہمراہ بیس ستمبر 2009 کواپنے عہدوں کا دوبارہ حلف اٹھایا تھا۔ جسٹس سردارمحمد رضا  خان کی بطور چیف الیکش کمشنر تعیناتی سے گلیات کے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ گلیات کے سیاسی و عوامی حلقوں کے مطابق موجودو سیاسی منظر نامے میں ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے سردارمحمد رضا پر اعتماد پوری قوم اور گلیات کے عوام کے لئے باعث فخر و افتخارہے ۔انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ سردار جسٹس محمد رضا   خان قوم کے اعتماد پر پورا اتریں گے۔

سردار رضا وفاقی شرعی عدالت کا چیف جسٹس کا حلف اٹھا رہے ہیں۔

Related posts

Leave a Comment