ریحام خان مستقبل میں تحریک انصاف کی قائد اور پاکستان کی وزیراعظم بن سکتی ہیں ، تجزیہ کار

اسلام آباد (تجزیہ: منظور ناظر) عمران خان کی نئی دلہن ریحام خان مستقبل میں ممکنہ طور پرتحریک انصاف کی قائد اور پاکستان کی وزیراعظم بن سکتی ہیں۔ جنوبی ایشیا کی سیاسی تاریخ اور پاکستان کے معروضی حالات کے پیش نظر اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ ریحام خان مستقبل میں کسی وقت پاکستان تحریک انصاف کی قیادت سنبھال سکتی ہیں اور اس صورت میں وہ پاکستان کی وزیراعظم کی امیدوار بھی ہو سکتی ہیں، اگرچہ تحریک انصاف کے قائد ملک سے موروثی سیاست کے خاتمے کے علمبردار ہیں مگر مستقبل میں خود ان کی اپنی پارٹی کی قیادت کون سنبھالے گا اس بارے میں دعوے سے کچھ کہنا ممکن نہیں۔ جنوبی ایشیا کی سیاسی تاریخ اور پاکستان کے معروضی حالات کو سامنے رکھیں تو اس بات کا قوی امکان نظر آتا ہے کہ 41 سالہ ریحام خان 62 سالہ عمران خان کی جانشین بن کر مستقبل میں ان کی سیاسی گدی سنبھال سکتی ہیں۔جنوبی ایشیا کے چار ملکوں میں جہاں جمہوریت کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے موروثی سیاست کا طویل عرصے سے دور دورہ ہے۔ نہ صرف برصغیر بلکہ دنیا بھر کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدارملک بھارت میں پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کی موت کے کچھ عرصے بعد ان کی بیٹی اندرا گاندھی عوامی مقبولیت حاصل کرکے وزیرعظم بننے میں کامیاب ہوئیں خود ان کے قتل کے بعد ان کے بیٹے راجیو گاندھی کو بھی یہی اعزاز حاصل ہوا، راجیو گاندھی کے قتل کے بعد کانگرس کی قیادت کا ہماگھوم پھر کران کے ہی خاندان میں واپیس آیا اور ان کی بیوہ سونیا گاندھی پارٹی قائد اورسابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے پس پشت اختیارات کی اصل حامل شخصیت رہ چکی ہیں۔ اب ان کے بیٹے راہول گاندھی  کانگرس کی صدارت سنبھالنے کے بعد بھارت کا اگلا وزیراعظم بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ کچھ اسی طرح کی صورتحال سری لنکا میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے جہاں سابق وزیراعظم بندرانائکے کے قتل کے بعد ان کی بیوہ سریما بندرانائیکے تین بار ملک کی وزیر اعظم اور بیٹی چندریکاکماراتنگا  ایک بار صدررہ چکی ہیں اس کے علاوہ ان کا بیٹاانورا بندرانائیکے پارلیمنٹ کے رکن و سپیکر اور وزیر خارجہ رہ چکے ہیں۔ بنگلہ دیش میں تو ملک کی دونوں بڑی جماعتوں کی قیادت موروثی طور پر دو خواتین کے پاس ہے۔ جہاں سابق وزیراعظم مجیب الرحمان کی موت کے ان کی بیٹی حسینہ واجد عوامی لیگ کی قائد اور بعد ازاں کئی بار وزیر اعظم بن چکی ہیں جب کہ ان کی بڑی سیاسی حریف خالدہ ضیاء بھی اپنے شوہرسابق صدر ضیاء الرحمان کے قتل کے بعد ان کی پارٹی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی سربراہ ہیں اورکئی بار ملک کی وزیر اعظم بن چکی ہیں۔ اب دونوں خواتین رہنما اپنے اپنے بیٹوں کو اپنا اپنا جانشین بنانے کی تیاریاں کر رہی ہیں۔

مستقبل میں بنگلہ دیش کی طرح پاکستان کی قیادت بھی خواتین کے پاس جا سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آصف زرداری کسی وقت بلاول بھٹو  کی بجائے اپنی کسی بیٹی بالخصوص آصفہ بھٹو کو سامنے لا کر پیپلز پارٹی کی قیادت ان کے حوالے کر دیں، اسی طرح مریم نواز شریف اپنے والد کے بعد ان کی سیاسی جانشین بن سکتی ہیں جب کہ عمران خان کی نئی دلہن ریحام خان ، عمران خان کے بعد تحریک انصاف کی قیادت سنبھال سکتی ہیں۔ اگرچہ شاہ محمود قریشی پارٹی کے سنئیر وائس چئیرمین کے طور پرآئینی طور پر عمران خان کے متوقع جانشین ہیں اور وہ مبینہ طور پر اس سسلسلے میں کافی امیدیں بھی لگائے بیٹھے ہیں مگر وہ اس کرشماتی شخصیت کے حامل نہیں جو عمران خان کو حاصل ہے اور جس کے بل بوتے پر پارٹی کچھ دوسرے عوامل کی وجہ سے کافی مقبول ہے۔ اس لحاظ سے شاہ محمود قریشی یا کوئی دوسرا پارٹی رہنما اس حیثیت کا حامل نہیں جو عمران خان کے بعد پارٹی مقبولیت کو قائم رکھ سکے۔ اس لئے ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں سونیا گاندھی کی طرح تحریک انصاف کی قیادت کی ہما گھوم پھر کرریحام خان کے سر پر آکر بیٹھ جائے یا وہ جلد ہی پارٹی میں وہ مقام حاصل کر لیں کہ عمران خان کے فوری بعد ان کوپارٹی قائد چن لیا جائے۔وہ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ کافی ذہین بھی لگتی ہیں اور وہ اپنی سیاسی بصیرت، دلکش اور مسحورکن شخصیت اور محنت کے بل بوتے پرعوام بالخصوص نوجوانوں کوجلد اپنے طرف متوجہ کر سکتی ہیں اورعمران خان کی عدم موجودگی میں بھی پارٹی کی مقبولیت برقرار رکھ سکتی ہیں، ویسے بھی وہ سیاست و صحافت میں یکساں شوق رکھتی ہیں اور پارٹی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا مبینہ طور پر ارادہ بھی رکھتی ہیں۔ وہ عمران خان کی حقیقی زندگی کی رفیق بننے کے ساتھ ساتھ سیاسی زندگی میں بھی مددگار و معاون کا کردار ادا کرنے کی تمنا رکھتی ہیں جس کی وجہ سے وہ سیاست میں وہ عروج حاصل کر سکتی ہیں جس کا اس وقت ایک عام کارکن یا رہنما تصور بھی نہیں کر سکتا، اس لحاظ سے مستقبل میں وہ عمران خان کی جانشین کی حیثیت سے پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ کا سبب بن سکتی ہیں اور اگر پارٹی جیت جاتی ہے تو وہ پاکستان کی وزیراعظم بھی بن سکتی ہیں۔ ممکن ہے کہ یہی سب کچھ سوچ کرسماجی علوم کی ماہر 41 سالہ ریحام خان نے 62 سالہ عمران خان سے شادی کا فیصلہ کیا ہے،اگر ایسا ہوا توموروثی سیاست کے خلاف سب سے اونچی آواز لگانے والے رہنما کی اپنی جماعت موروثی سیاست کی شکار ہو جائے گی، اور تحریک انصاف کے بارے میں کہا جا سکے گا کہ “رانجھا رانھا کردے میں آپ رانجھا ہوئی۔” ویسے  مستقبل میں کیا ہوتا ہے خدا ہی بہتر جانتا ہے ہم صرف اندازہ ہی لگا سکتے ہیں۔

wedding pic2

Related posts

Leave a Comment