الیکشن کمیشن کی نااہلی، 3 ہزار آبادی کا گاؤں دکھن تتریلہ عوامی نمائندگی سے محروم

دکھن تتریلہ (نمائندہ گلیات ٹائمز) الیکشن کمیشن آف پاکستان اور صوبائی حکومت کی ناہلی، 3ہزار نفوس پر مشتمل آبادی اور ایک ہزارسے زائد ووٹروں کا حامل گاؤں دکھن تتریلہ بلدیاتی انتخامات میں عوامی نمائندگی سے مکمل طور پر محروم،اس ظلم عظیم پر گاؤں کے عوام سراپا احتجاج، گاؤں میں دوبارہ انتخابات کراکے عوام کو حق نمائندگی دینے کا مطالبہ، تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان اور صوبائی حکومت کی کی بدترین نااہلی و بد انتظامی کی بدولت یونین کونسل نگری بالا کے گاؤں دکھن تتریلہ کی تین ہزار نفوس پر مشتمل آبادی عوامی نمائندگی کے حق سے مکمل طور پر محروم ہو گئی ہے، ایک ہزار سے زائد ووٹر ہونے کے باوجود گاؤں کا ایک بھی شخص متعلقہ وارڈ کے منتخب عوامی نمائندوں میں شامل نہیں ہے، یونین کونسل نگری بالا کی وارڈ تین، جو تتریلہ، دکھن تتریلہ اور مکول کے علاقوں پرمشتمل ہے، کا علاقہ دکھن تتریلہ الیکشن کمیشن اور صوبائی حکومت کی مکمل نااہلی اور بد انتظامی کا بد ترین شکار ہوا ہے۔ حالیہ بلدیاتی انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن کے متعین کردہ انتخابی عملہ کے اکثریتی اہلکار گاؤں نہیں پہنچے،گلیات ، دکھن تتریلہ میں نفاذ اسلام کنونشن کے دوران عوام علاقہ جس کے بعد گاؤں کے لوگوں نے الیکشن کمیشن کے موجود ناکافی عملہ کی مدد کے لئے مقامی افراد فراہم کئے اور انتخابی عمل شروع کرا دیا تاہم بعد میں پولنگ سٹاف کے بعض افراد پر جانبداری برتنے اوردیگر الزامات لگنے کے بعد لڑائی جھگڑا شروع ہو گیا جس کو صوبائی حکومت کا متعین کردہ عملہ قابو کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔ لڑائی جھگڑے کے دوران بیلٹ باکس مقامی سکول میں قائم پولنگ ستیشن سے باہر پھینک دئیے گئے اور پولنگ کا عمل روک گیا جس کی وجہ سے گاؤں کے اکثر ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے سے محروم رہ گئے۔ دکھن تتریلہ میں پولنگ کا عمل مکمل نہ ہونے کی وجہ سے مقامی امیدواروں کواپنے حمایتی لوگوں کے ووٹ نہ مل سکے اور اس طرح وارڈ کے دوسرے علاقوں تتریلہ اور مکول سے تعلق رکھنے والے امیدوار باآسانی منتخب ہو گئے۔ لڑائی جھگڑے کی وجہ سے دکھن تتریلہ میں دوبارہ الیکشن کرانے کی سفارش کی گئی تھی مگر نادیدہ ہاتھوں کے اثرورسوخ کی وجہ سے اب دکھن تتریلہ میں دوبارہ انتخاب نہ کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ایک ہزار ووٹروں اور تین ہزار آبادی پر مشتمل گاؤں دکھن تتریلہ، جس کے دو سے تین امیدوار منتخب ہو سکتے تھے، اب مکمل طور پر عوامی نمائندگی سے محروم رہ گیا ہے۔ گاؤں دکھن تتریلہ کے عوامی و سیاسی حلقوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ گاؤں دکھن تتریلہ میں دوبارہ انتخاب کرایا جائے تاکہ گاؤں کے عوام کواپنے مقامی عوامی نمائندوں کے انتخاب اور ان کےذریعے اپنے مسائل حل کرنے کا حق مل سکے۔

Related posts

Leave a Comment