ایبٹ آباد، بعدازانتخابات دھاندلی، ترقیاتی سکیموں کا لالچ دےکرآزادامیدواروں کی وفاداریاں خریدنے کا سلسلہ جاری، الیکشن کمیشن نے آنکھیں بند کر لیں

ایبٹ آباد (بیورورپورٹ) صوبہ خیبر پختونخوامیں 30 مئی کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے بعدآزاداراکین کی وفاداریاں خریدنے کے لئے سرکاری وسائل کا استعمال اور بعداز انتخابات دھاندلی کا سلسلہ جاری ہے۔ ضلع میں بڑی تعداد میں جیتنے والے آزاد اراکین ضلع و تحصیل کونسل کی وفاداریاں خریدنے کے لئے انہیں ترقیاتی سکیموں کا لالچ دیا جارہا ہے۔اور ضلع و تحصیل حکومتیں بنانے کے لئے غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق صوبے میں 30 مئی کو ہونے والے انتخابات میں آزاد امیدواروں کی ایک بڑی تعداد بطور رکن ضلع یا تحصیل کونسل منتخب ہوئی تھی ، جن کو قانون کے مطابق مقررہ وقت کے اندر کسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا تھی، صوبائی حکومت نے ضلع کونسل ایبٹ آباد میں تحریک انصاف کی واضح اکثریت نہ ہونے، اورپارٹی میں اختلافات کے تناظر میں آزاد امیدواروں کی وفاداریاں خریدنے کے لئے غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کرنے شروع کر دیئے ہیں۔اور ترقیاتی سکیموں کا لالچ دے کر آزاد امیدواروں کو تحریک انصاف میں شمولیت پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ 30 مئی کو انتخابات ہونے کے تین ماہ بعد منتخب ارکان سے حلف لینے کا اعلان کیا گیا ہے جو آئین و قانون کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہے، انتخابات کے تین ماہ بعد تک حلف برداری کو موخر کرنا بعد از انتخابات دھاندلی اور امیدواروں کی وفاداریاں خریدنے کے لئے سوچی سمجھی سکیم کا حصہ ہے۔ ذرائع کے مطابق آزاد امیدواروں کی وفاداریاں خریدنے کے لئے سرکاری وسائل اور صوابدیدی فنڈزکا بےدریغ استعمال کیا جا رہے ہے۔ اس سلسلے میں تحریک انصاف کے منتخب اراکین صوبائی و قومی اسمبلی اہم کردار ادا کرہے ہیں، وہ آزاد حیثیت میں جیتنے والے اراکین ضلع و تحصیل کونسل کی ملاقاتیں صوبائی وزیراعلیٰ پرویز خٹک سے کروا رہے ہیں جو ان ارکان کی وفاداریاں خریدنے کے بدلے ان کے علاقوں میں ترقیاتی سکیموں کا اعلان کر رہے ہیں، صوبائی وزیر اعلیٰ نے ان ترقیاتی سکیموں پر فوری عملدرآمد کے احکامات بھی جاری کر دیئے ہیں جس کے بعد کچھ سکیموں پر کاموں کا آغاز ہو گیا ہے، آزاد امیدواروں کی وفاداریاں خریدنے کے لئے ان کے علاقوں میں جن سکیموں کا اعلان کیا گیا ہے ان میں سڑکوں تعمیر، پانی کی فراہمی، سرکاری سکولوں و ڈسپنسریوں کا قیام اور ان کی اپ گریڈیشن کے منصوبے شامل ہیں۔ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والی ہدایات کے مطابق یہ منصوبے سالانہ ترقیاتی پروگرام سے ہٹ کر مکمل کئے جائیں گے۔اور ان پر فوری طور پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے تاکہ آزاد امیدواروں کی تحریک انصاف سے وفاداری اور ضلع و تحصیل حکومتوں کے انتخابات میں ان کی حمایت کوہر صورت یقینی بنایا جا سکے، ایبٹ آباد کے سیاسی و عوامی حلقوں نے اس سلسلے کو بعد از انتخابات دھاندلی اور کھلم کھلا ہارس ٹریڈنگ کے مترادف قرار دیاہے، اس صورتحال کا الیکشن کمیشن نے کوئی نوٹس نہیں لیاہے اوروہ صوبائی حکومت کی طرف سے انتخابی قوانین کی دھجیاں اڑانے پرخاموش تماشائی کو کردار ادا کر رہاہے، سیاسی وقانونی حلقوں کے مطابق الیکشن کمیشن خواب غفلت سے بیدار ہو کر اس صورتحال کا نوٹس لے اور صوبائی حکومت کی طرف سے کی جانے والی بعد ازانتخابات دھاندلی اور ہارس ٹریڈنگ پروزیراعلیٰ پرویزخٹک کے خلاف فوری قانونی کارروائی کرے۔
postpoll rigging notification

post poll rigging2
54d474a98c16e

Related posts

Leave a Comment