سانحہ مکول، جہاد اور گھر کے مودی

(ڈاکٹر منظور ناظر)

صوبہ خیبر پختونخوا میں واقع سیاحت کے لئے دنیا بھر میں مشہور علاقے گلیات کے ایک گاؤں مکول میں جو انسانیت سوز واقعہ پیش آیا اس کا ذکر چند گھنٹوں کے اندرپوری دنیا کے میڈیا میں ہونے لگا جس کی وجہ سے ملک و قوم کی بدنامی تو یقینی طور پر ہوئی مگر اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے دباؤ کی وجہ سے وفاقی و صوبائی حکومتوں کو اس کا نوٹس لینا پڑا اورعمومی طور پر “مٹی پاؤ” فارمولے پر عمل پیرا مقامی پولیس کوتفتیش تیز کرنے اور اسے جلد منتقی انجام تک پہنچانے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس سارے عمل کے نتیجے میں پندرہ سالہ عنبرین کو سفاکانہ انداز میں قتل کرنے اور لاش کو جلانے میں ملوث پندرہ ملزمان گرفتار کر لئے گئے۔ یہ واقعہ جو میرے گاؤں (کسالا) کے سامنے واقع گاؤں مکول میں ، میرے والد بزرگوار کی وفات سے ایک رات پہلے پیش آیا، تعزیت کے لئے آنے والے ہر شخص کی زبان پر تھا اور ہر کوئی اس سفاکانہ قتل کے پس پشت محرکات اور اس میں ملوث ملزمان کے بارے میں متجسس اور چہ مگوئیوں میں مصروف تھا، اکثر لوگوں کا خیال تھا کہ اس اندھے قتل کے حقیقی اسباب اور اس میں ملوث افراد شاید کبھی معلوم نہیں ہو سکیں گے مگرمیڈیا کے استعمال اور اس کے نتیجے میں پڑنے والے دباؤ نے یہ سارے شکوک و شبہات غلط ثابت کر دئیے۔ اس اندھے قتل کے راز سے پردہ فاش کرنے کا سہراعرصہ دراز سے میڈیا سے منسلک میرے پرانے دوست عبداللہ خان اور ایک مقامی این جی او کے روح رواں اور میرے دوست محمد اشفاق اور ان کے کچھ دیگر دوستوں کے سر ہے۔ ان دوستوں نے اپنےعلاقے میں ہونے والے اس سفاکانہ قتل کے خلاف اٹھائی اور ظلم و بربریت کی بدترین مثال کے سامنے علم جہاد بلند کیا۔ یہ لوگ اپنی جانوں کو لاحق خطرات اور دھکمیوں کی پروا نہ کرتے ہوئے اصل ملزمان کی نشاندہی اور گرفتاری تک مسلسل اپنی آواز بلند کرتے رہے، قتل کے محرکات کیا تھے، کیا یہ قتل ایک جرگے کے فیصلے کا نتیجہ تھا یا جرگے کا نام استعمال کرکے علاقے میں اپنی بدمعاشی اور دھونس و دھاندلی قائم کرنے والے نام نہاد عزت داروں کے مکروہ کھیل اور منفی ہتھکنڈوں کا حصہ تھا۔ اس بحث سے قطع نظر حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ واقعہ اس طور پر میڈیا میں نہ آتا تو اس اندھے قتل کے محرکات اور ملزمان ہمیشہ پوشیدہ ہی رہتے اور عنبرین کے قاتل اپنی شان و کروفر کے ساتھ کھلے عام گھومتے رہتے۔ مگر چند لوگوں کی طرف سے علم جہاد بلند کرنے کی وجہ سے اب انصاف کے تقاضے پورے ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ ہمارے ہاں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ سیاسی و مذہبی قائدین کشمیر و فلسطین میں ہونے والے مظالم کے کے خلاف احتجاج اور مذمت کرتے تو نظر آتے ہیں مگر ان کو اپنے ہی گھروں، شہروں اور آبادیوں میں دندناتے ہوئے ایریل شیرون، ایڈوانی اور منندر مودی نظر نہیں آتے۔ ان سے گزارش ہے کہ عبداللہ خان کی طرح اپنے گھر اور گاؤں میں ہونے والے مظالم اور انسانیست سوز واقعات کے خلاف بھی آواز اٹھائیں اور کشمیر و فلسطین کی بجائے اپنے ارد گرد موجود مودی جیسے افراد کے خلاف علم جہاد بلند کریں اور مظلوموں کی دادرسی اور انصاف کی فراہمی کے لئے ان کا ساتھ دیں۔ یقینی طور پر ہمارے سیاسی و مذہبی رہنماؤں اور عسکریت پسندوں کے لئے عبداللہ خان اور محمد اشفاق جیسے لوگوں کا کردارمشعل راہ ہے۔

Leave a Comment