ایبٹ آباد، ٹرانسپورٹروں کی لوٹ مار، سی این جی استعمال کے باوجود پٹرول کے حساب سے کرایہ وصولی

ایبٹ آباد (نمائندہ گلیات ٹائمز) انٹر سٹی روٹس پر چلنے والی گاڑی مالکان کی لوٹ مار، گاڑیوں میں سی این جی کا استعمال مگر کرائے پٹرول کے حساب سے لیتے ہیں، صوبائی حکومت سے نوٹس لینے کا مطالبہ، تٖفصیلات کے مطابق ایبٹ آباد سے اسلام آباد ، پشاوراور کوہاٹ سمیت دیگر شہروں کے درمیان چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کے مالکان عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں، مگر صوبائی و ضلعی انتظامیہ نے اس کو نوٹس لینے کی بجائے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں، مسافروں کو شکایت ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ جس میں زیادہ تر ٹویوٹا ہائی ایس وینز شامل ہیں کے مالکان عرصہ دراز سے اپنی گاڑیوں میں سی این جی گیس استعمال کر رہے ہیں مگر وہ مسافروں سے کرایہ پٹرول کے حساب سے وصول کر رہے ہیں، ماضی میں جب بھی پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا تھا گاڑی مالکان انتظامیہ کے ساتھ مک مکا کر کے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں حسب منشا اضافہ کرا لیتے رہے، جب ان سے کہا جاتا کہ آپ گیس استعمال کرتے ہیں تو پٹرول کی قیمت بڑھنے سے آپ کا کیا تعلق ہے اور اس بنیاد پر آپ کیوں کرائے بڑھا رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ایسا انتظامیہ کی منظوری سے ہوا ہے جس کو شکایت ہو وہ انتظامیہ سے بات کرے۔ پچھلے تین سال کے دوران عالمی و ملکی سطح پر پٹرول کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہونے کے باوجود گاڑی مالکان یا انتظامیہ کی طرف سے کرایوں میں خاطر خواہ کمی نہیں کی گئی۔ جب ٹرانسپورٹرز کی توجہ پٹرول کی قیمتوں می نمایاں حد تک گراوٹ کے باجود کرایوں میں معمولی کمی کی طرف دلائی جاتی ہے تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ وہ تو گاڑیاں گیس پر چلاتے ہیں، پٹرول پر چلائیں توگھر بیٹھ جائیں، اس لئے کرایوں کا پٹرول کی قیمتوں ک ساتھ کوئی تعلق نہیں، مسافروں نے گاڑی مالکان کے اس دوغلے پن اور منافقانہ رویئے کی شدید مذمت کرتے ہوئے صوبائی و ضلعی انتظامیہ سے اس کا فوری نوٹس لینے اور لوٹ مار بند کرانے کے مطالبہ کیا ہے ۔عوامی حلقوں کے مطابق پنجاب اور اسلام آباد میں اکثر بالخصوص سردیوں میں گاڑیوں کو سی این جی دستیاب نہیں ہوتی اسی لئے کرائے پٹرول کی قیمتوں کے تناسب سے طے کئے جاتے ہیں مگر خیبر پختونخوا میں گاڑیاں سارا سال سی این جی پر چلتی ہیں مگر گاڑی مالکان مسافروں سے کرائے پٹرول کی قیمتوں کے حساب سے لیتے ہیں جو سراسر ظلم اور کھلے عام لوٹ مار کرنے کے مترادف ہے۔ مسافروں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے سی این جی کا استعمال ممنوع قرار دیا جائے یا پھرپبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے سی این جی کی قیمت کے حساب سے طے کر کے نمایاں طور پر کم کئے جائیں۔ اوراس سلسلے میں عوام کو ریلیف دینے کے لئے فوری طور پر عملی اقدامات کئے جائیں۔

Related posts

Leave a Comment