جی ڈی اے کا نیا قانون گلیات کے وسائل لوٹنے کا حکومتی پروانہ ہے، چار نجی ارکان مل کرگلیات نیلام کر سکتے ہیں

ایبٹ آباد (نمائندہ گلیات ٹائمز) جی ڈی اے کا نیا قانون گلیات کے وسائل لوٹنے کا حکومتی پروانہ ہے، چار نجی ارکان مل کرگلیات نیلام کر سکتے ہیں، سیاسی و سماجی حلقوں اور مبصرین کی رائے۔ تفصیلات کے مطابق گلیات کے سیاسی و سماجی حلقوں، پڑھے لکھے طبقے اور مبصرین نے مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ جی ڈی اے کا نیا قانون گلیات کے وسائل لوٹنے کا حکومتی پروانہ ہے، یہ کالا قانون ہے جو غیر جمہوری انداز میں اور علاقہ کے عوام کی امنگوں کے برخلاف منظور کیا گیا ہے ضلع ناظم ایبٹ آباد سردار شیر بہادرنے اس قانون کو گلیات کو نیلام کرنے کا حکومتی پروانہ قرار دیا ہے۔ اور اس کے خلاف مزاحمت کرنے کا فیصلہ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ ایبٹ آباد بالخصوص گلیات کے عوام اس قانون کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے اس قانون پرعوامی ردعمل جاننے اور صلح مشورے کے لئے معززین علاقہ، منتخب بلدیاتی ارکان، تاجر تنظیموں اورسیاسی کارکنان کا اہم اجلاس پیر کے دن طلب کیاہے۔ مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں اور ارکان صوبائی اسمبلی سردار اورنگزیب نلوٹھہ اورآمنہ سردار نے اس قانون کو غیر جمہوری اورعوام علاقہ کی امنگوں کے برخلاف قرار دیا ہے اور صوبائی اسمبلی میں اس کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔انہوں نے اس قانون کو جموری اور عوام دوست بنانے کے لئے ترامیم پیش کی تھیں جو مسترد کر دی گئیں۔ آمنہ سرداراپنا تفصیلی ردعمل پیر کے دن پریس کانفرنس یا پھر پریس ریلیز کی صورت میں دینے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے مقامی رہنماؤں نے ابھی کھل کر اس قانون کی مخالفت نہیں کی مگر وہ اس کا دفاع بھی نہیں کر رہے، اوررابطہ کرنے کے باوجود انہوں نے ابھی تک اپنی رائے نہیں دی۔ مسلم لیگ نواز کے رہنما جبرائیل عباسی اس قانون کو گلیات کے وسائل لوٹنے کا منصوبہ قرار دے رہے ہیں۔ ماہر سیاسیات اور کالم نگار ڈاکٹرمنظورناظر نے اس قانون پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون سراسرغیر قانونی اورغیر جمہوری ہے جس کے تحت کسی بھی وقت اتھارٹی کے تین یا چار ارکان کوئی بھی فیصلہ کر سکتے ہیں، تین چارارکان چائیں تو پورےگلیات کو نیلام کر دیں یا گروی رکھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف آواز اٹھاتی رہی اور مطالبہ کرتی رہی کہ اس کے اکثریتی حصص اور انتظامی اختیار حکومت کے پاس ہونا چائیے، مگراس جماعت کی صوبائی حکومت نے گلیات کے ترقیاتی ادارے کو ایک کمپنی میں تبدیل کر کے اس کا انتظام و انصرام مکمل طور پر نجی شعبے کے سپرد کر دیاہے، نجی شعبے کے ارکان اکثریت میں ہونے کے باعث جو چاہیں ٖفیصلہ کر سکیں گے۔ اجلاس میں اگر صرف7 ارکان شریک ہوں تو ان میں سےصرف 4 ارکان کا فیصلہ اکثریتی اور اتھارٹی کا قانونی فیصلہ قرار پائے گا، قانون میں موجود یہ شق انتہائی غیر جمہوری اور قابل تشویش ہے، دوسری طرف اتھارٹی میں مقامی افراد کی نمائندگی کا کوئی ذکر نہیں جو اور بھی افسوسناک ہے، اتھارٹی میں مقامی لوگوں کو مناسب نمائندگی ملنا نہایت ضروری ہے، اسی طرح سرکاری ارکان کی تعدار نجی شعبے کے ارکان سے زیادہ ہونا چائیے تا کہ حکومتی ارکان اور مقامی نمائندے مل کر علاقہ کے مفادات کا تحفظ کر سکیں۔ گلیات کے سیاسی و سماجی حلقوں کی اکثریت نے صوبائی حکومت سے یہ کالا قانون واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

Related posts

Leave a Comment