گلیات کے وسائل لوٹنے کا منصوبہ، مال پرست ٹولے نے قانون بدل کر لوٹ سیل کی راہ ہموار کر لی

ایبٹ آباد (ںمائندہ گلیات ٹائمز) مال پرست ٹولے نے گلیات کے وسائل لوٹنے کا منصوبہ بنا لیا، جی ڈی اے ایکٹ تبدیل کر کے بندر بانٹ کی راہ ہموار کر لی، تفصیلات کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت میں شریک مال پرست ٹولے نے قدرتی حسن اور وسائل سے مالا مال ملک کےمعروف سیاحتی علاقہ گلیات کی بیش قیمت اراضی اور دیگروسائل کو لوٹنے کامنصوبہ بنایا ہے جس کے پہلے مرحلے میں آج سے 20 سے قبل تشکیل پانے والی گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ایکٹ مجریہ 1996 کی بجائے نیا قانون صوبائی اسمبلی سے منظور کرایاگیا ہے جس کے تحت جی ڈی اے عملی طور پر ایک حکومتی ادارے کی بجائے نجی کمپنی بن جائے گا۔ پرانے قانون کے مطابق جی ڈی اے کو چلانے کے لئے 11 رکنی بورڈ میں صوبائی وزیر اعلیٰ یا ان کے نامزد کردہ صوبائی وزیر کے علاوہ صوبائی وزیر بلدیات (انچارج وزیر) شامل تھے دیگر ارکان میں ایڈیشنل سیکرٹری ( پی ای اینڈ ڈی)،سیکرٹری خزانہ،سیکرٹری جنگلات و جنگلی حیات و ماہی پروری، سیکرٹری فزیکل پلاننگ و ہاؤسنگ، سیکرٹری مواصلات و ورکس، سیکرٹری زراعت، کمشنر ہزارہ ڈویژن، اور ڈائریکٹر جنرل سپیشل ڈیپارٹمنٹ یونٹ آف پلاننگ، ماحولیات و ترقی اور وزیر اعلیٰ کا نامزد کروہ کوئی ایک شخص شامل تھے، صوبائی اسمبلی سے پچھلے ہفتے پاس ہونے والے نئے قانون کے مطابق اب بورڈ سے زیادہ تر سرکاری افسران کی چھٹی کر دی گئی ہے اور اب 11 رکنی بورڈ میں صرف 4 سرکاری ارکان ہوں گے جب کہ باقی ماندہ 7 ارکان نجی شعبے سے لئے جائیں گے جو ماحولیات، ٹاؤن پلاننگ، فارسٹری، بزنس، کمیونٹی ڈویلپمنٹ، مارکیٹنگ، ٹوراز،آرکیٹیکچر، قانون، فنانس اور سول انجنئیرنگ میں مناسب تجربہ کے حامل افراد ہو سکتے ہیں۔ سرکاری اور نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے ارکان کا تقرر صوبائی حکومت کرے گی۔ ۔نئے قانون کے مطابق جی ڈی اے کے چئرمین کا تعلق نجی شعبے سے ہو گا جس کا انتخاب نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے ارکان کریں گے۔ چئیرمین اتھارٹی کے اجلاس کی صدارت کرے گا جو اپنی عدم موجودگی میں اجلاس کی صدارت کے لئے نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے کسی دوسرے رکن کو قائمقام چئرمین بناسکے گا، بصورت دیگر موجود ارکان اجلاس کی صدارت کے لئے اپنے میں کسی ایک رکن کو قائمقام چئیرمین کے طور پر منتخب کر سکیں گے۔ اجلاس منعقد کرنے کے لئے کم از کم 7 ارکان کی موجودگی لازمی ہو گی ان 7شریک ارکان میں کم از کم ایک سرکاری رکن کا ہونا ضروری ہو گا۔ نئے قانون کے مطابق جی ڈی اے کے فیصلے اجلاس میں شریک ارکان اکثریتی بنیاد پر کرسکیں گے ، ٹائی ہونے کی صورت میں چئیرمین یا اس کی عدم موجودگی میں صدارت کرنے والا رکن (قائمقام چئرمین) کاسٹنگ ووٹ ڈال سکے گا، نئے قانون کے مطابق اتھارٹی کے پاس گلیات کی اراضی، جس میں علاقہ کی زمین،اور اس کی سطح پر، نیچے یا اوپر موجود، پانی اور فضا، زمین سے منسوب یا اس پرموجود ڈھانچے یا تعمیرات اور اراضی سے نکلنے والی یا اس سے متعلق فوائد، وسائل و معدنیات وغیرہ شامل ہیں کو بیچنے کے علاوہ کسی کو لیز پر دینے، سودا کرنے، منتقل کرنے، گروی رکھنے، تصرف میں لانے یا کسی کو استعمال کرنے سے روکنے، کرایہ پر لینے اور کسی کو الاٹ کرنے وغیرہ کا اختیار ہو گا۔ اس قانون کی روسے اتھارٹی کے ارکان جن کی دوتہائی تعداد کا تعلق نجی شعبے سے ہے کسی بھی وقت گلیات کے وسائل کوبیچ کھا سکتے ہیں، آپس میں بندر بانٹ کرسکتے ہیں یا علاقہ بھر کے عوام اور ان کو مال و دولت کو گروی رکھ عیش و عشرت کی زندگی گزار سکتے ہیں۔

Related posts

Leave a Comment