غیر زمہ داری کی انتہا، تحصیل ناظم ایبٹ آباد نے سرکاری سکول پر ریاست مخالف جذبات پروان چڑھانے کا الزام لگا دیا

ایبٹ آباد (نمائندہ گلیات ٹائمز) تحصیل ناظم نے غیر ذمہ داری کی انتہا کر دی، کمسن طالبعلم پرغداری کاالزام لگا دیا، غلط اور جھوٹی شکایت پر خفیہ اداروں کا سکول پر چھاپہ، تحقیقات میں تحصیل ناظم کی الزام تراشی بے بنیاد نکلی، تفصیلات کے مطابق پاکستان کے یوم آزادی کے حوالے سے ایک تقریب گورنمنٹ ہائی سکول کسالا، (یونین کونسل نگری بالا) ایبٹ آباد میں منعقد ہوئی جس میں تحصیل ناظم ایبٹ آباد اسحاق سلیمانی کو بطور مہمان خصوصی بلایا گیا، تقریب میں یونین کونسل سے منتخب رکن ضلع کونسل کرنل ریٹائرڈ سردارمحمد شبیر، رکن تحصیل کونسل سردار محمد نیاز اور ولیج کونسل کسالا کے ناظم سردار گل خطاب کے علاوہ کے ٹو ٹی وی کے میزبان اور کے ٹو ٹائمز کے ایڈیٹر سردار محمد افتخار بھی موجود تھے، تقریب میں سکول کے طلبہ نے آزادی کے حوالے سے مختلف موضوعات پر تقاریر کیں جس کی معزز مہمانوں نے اپنے خطاب میں تعریف و تحسین کی اور اس کی باقاعدہ خبر مقامی اخبارات میں بھی شائع ہوئی تاہم تقریب کے اگلے ہی دن تحصیل ناظم اسحاق سلیمانی نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (میل) ایبٹ آباد کو اپنے سرکاری لیٹر ہیڈ پر ایک لیٹر لکھا جس کی کاپی صوبائی وزیر اعلیٰ، صوبائی چیف سیکرٹری، سیکرٹری تعلیم، سٹیشن کمانڈر ایبٹ آباد، ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد، کینٹونمنٹ اکزیکٹو آفیسر، کینٹ بورڈ، ایبٹ آباد اور پرنسل گورنمنٹ ہائی سکول کسالا، ایبٹ آباد کو بجھوائی گئی، تحصیل ناظم نے اپنے خط میں لکھا کہ ” کچھ طلبہ کہ تقریروں سے خطرے کی بوآرہی تھی اور ان تقریروں کا لب لب یہ تھا کہ ہم کو یہ آزادی یا ملک نہیں چائیے- ” تحصیل ناظم نے لکھا کہ کچھ تقریروں میں ریاست مخالف ، نفرت انگیز اور نظریہ اسلام کے خلاف مواد تھا۔ complaints-by-tn الفاظ اور گرائمر کی غلطیوں سے بھرپور خط میں تحصیل ناظم نے لکھا کہ ذمہ داروں کے خلاف محکمانہ انکوائری اور ذمہ داری کا تعین کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ تحصیل ناظم کی ٖغلط شکایت کے بعدخفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں اور محکمہ تعلیم کے حکام نے تحقیقات شروع کردیں جس کی وجہ سے سکول کے اساتذہ، طلبہ اور ان کے والدین میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ذرائع کے مطابق تحقیقات کے دوران خفییہ اداروں کے اہلکاروں نے تقریروں کی وڈیوزدیکھیں اور اس نتیجے پر پہنچے کہ ان میں ریاست یا حکومت پاکستان کے خلاف کوئی مواد موجود نہیں ہے۔ تحصیل ناظم نے اپنے خط میں بالواسطہ طور پر سکول انتظامیہ پر ریاست مخالف ، نفرت انگیز اور نظریہ اسلام کے خلاف لٹریچر پھیلانے کے لئے طلبہ کی برین واشنگ کرنے کا الزام لگایا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ تقریب کے اختتام پر اپنی تقریر کے دوران تحصیل ناظم کو طلبہ کی تقریروں میں کوئی مسلہ نظر نہیں آیا اور انہوں نے اپنی تقریر میں سکول انتظامیہ کی کاوشوں اور طلبہ کی بھرپور صلاحیتوں کے اظہار پر ان کی خوب تعریف و تحسین کی تھی جس کی رپورٹنگ اگلے دن کے اخبارات میں بھی ہوئی تھی، تاہم صرف ایک دن بعد تحصیل ناظم کو وہی تقریریں پاکستان مخالف لگنے لگیں۔ انہوں نے انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اور اپنے مقام و مرتبے کا غلط استعمال کرتے ہوئے غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے مذموم مقاصد کی خاطر ایک جھوٹی شکایت کر کے کمسن بچے، اس کے والدین، سکول انتظامیہ اور پورے گاؤں کو غدار بنا کر پیش کر دیا جس پر علاقہ بھر میں غم و غصہ کی شدید لہر پائی جاتی ہے ۔ علاقہ کے معززین، سیاسی و سماجی شخصیات نے مطالبہ کیا ہے کو جھوٹی شکایت کرنے پرتحصیل ناظم کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اور ان سے استعفیٰ لے کر کسی ذمہ دار اور اہل آدمی کو تحصیل ناظم کے اہم منصب پر منتخب کیا جائے۔

%d9%86%d8%a7%d8%b8%d9%85-%d9%be%db%8c%da%86

Related posts

Leave a Comment