میں کیسا مسلمان ہوں ۔۔۔؟

            
جنید پرویز    

پوری رات انٹر نیٹ کی جدید ٹکنالوجی وٹس ایپ اور فیس بک سے مستفید ھوتا رھااورفجر کی اذان کا وقت آن پہنچا،میرے کانوں تک بھی مختلف مسجدوں سے اذان کی آواز آنا شروع ہویٓ لیکن میں جتنی جلدی ہو  سکا کمبل اوڑ کرسو گیا کیونکہ مجھے اس بات کا علم تھا کہ اگر میری والدہ نماذ کے لیے اٹھ گیٓں تو مجھے بھی نماذ کا بولیں گیٓ اس سے اچھا ہے کہ میں ان کے اٹھنے سے پہلے ہی سو جاوٓں تاکہ مجھے نماز نہ پھڑنی پڑ جاےٓ میں پلک جبکاتے ہی سو گیا کیونکہ فجر ہو چکی تھی اور میں پوری رات نہیں سویا تھا اور نیند مجھ پر غالب آ چکی تھی۔ اصل میں واٹس ایپ میں میرا ایک گروپ ہے جس کا ایڈمن بھی میں ہی ھوں، واٹس ایپ گروپ   میں مسلمان۔۔۔۔۔!

       کے نام سے ہے جسمیں میرے بہت سے دیندار قسم کے دوست اور باقی بہت سے احباب ہیں بس پوری رات ان سے گپ شپ اورفیس بک پر لایٓکس اورکمنٹس چیک کرنے  میں گزر جاتی ہے بہرحال میں سو گیا میری والدہ متحرمہ مجھے فجر کے لیٓے اٹھاتی رہی لکین میں نماز کے لیٓےنہ اٹھا یا پھر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ میراکوہٓی ارادہ ہی نہ تھا فجر کی نمازپڑھنے کا،خیر میں دوپہرتک بڑی پرسکون نیند سوتا رہا۔لیکن میرے زہن میں نہیں تھا کہ آج جمعہ کا دن ہے اور میری والدہ متحرمہ نے کبھی بھی مجھے نہیں چھوڑنا کہ میں سوتا رہوں اور جمعہ کی نماز نہ پڑھوں۔ جیسے ہی نماز کا وقت قریب آیا میری والدہ متحرمہ نے مجھے نماز کے لیےٓ اٹھانا شروع کیا پہیلی بار جب میری والدہ متحرمہ نے مجھے آواز دی تو مجھے جیسے پتا ہی نہ چلا کہ مجھے کوہٓی جگا رہا، ساری رات انٹرنیٹ پہ جو مصروف رہا۔ میری والدہ متحرمہ مجھے بار بارجگانےکےلیےٓ آواز دیتی رہی اور نماز کےلیے اصرار کرتی رہیں میرےدماغ میں یہ چل رہا تھا کہ کسی طرح نماز کا وقت گزر جاےٓ تاکہ میں سکون سے شام تک سوتا رہوں لیکن والدہ نے مجھے کبھی بھی سونے نہیں دینا تھا اور مجھے جمعہ کی نماز کے لیےٓ ہر حال میں اٹھانا تھا اس لیےٓ وہ بار بار نماز کے لیے اصرار کرتی ہی رہیں اورمجھے مجبوری میں اٹھنا ہی پڑامیں اپنی والدہ کی عزت وتعظیم کی خاطر توکچھ نہ بولا لیکن دل میں یہ کہا کہ یارا عجیب گھر ہےکوہٓی سکون سے سونےتک نہیں دیتا،یہ جمعہ بھی روز ہی آجاتا ہے اور پچھلا جمعہ جو پڑھا تھا اور یہ جمعہ پڑھنا کوہٓی ضروری تو نہیں  دل میں یہ سب بول کر میں اٹھ گیا۔ اتنے  میں جمعہ کی نماز کے لیے پہلی آزان ہو چکی تھی اور میں نے والدہ سے کہا کہ ایک کپ چاےٓ کا بناہیں اور میں واش روم سے ہاتھ منہ دھو کر آیا۔ واش روم سے آتے ساتھ ہی میں نے اپنے اپنے ہینڈ فری اٹھاےٓ اور اپنے کانوں میں لگا کر اپنے من پسند گانے سننا شروع ہو گیا اور ساتھ ساتھ اپنے موباہیل فون پہ واٹس ایپ اور فیس بک کی نوٹیفیکشنز چک کرنا شروع ہو گیا اور ساتھ میں چاےٓ کی چسکیٓاں لینا لگا چاےٓ ختم کر کے اپنے کمرے کی الماری کی جانب بڑھااورانگریزی طرز کا لباس لے کر  نہانے کے لیے واش روم چلا گیا۔ انگریزی طرز کا نہا کر، انگریزی لباس پہن کر، بالوں میں جل لگا کر، انگریزی ہیر سٹاہل بنا کر،ایک  انگریزی گانا گنگتاتے ہوےٓ مسجد کی جانب گھر سے نکل گیا والدہ نے آواز لگاہیٓ کہ ٹوپی پہن کر جاوٓ میں نے تیز آواز میں بولا امی ابھی اتنا ٹاہٓم لگا کر سٹاہل بنایا ہے ٹوپی سے خراب ہو جاہے گا چھوڑو ٹوپی کواورمیں مسجدکی طرف چل دیا۔ اتنے میں مولانا صاحب وعظ کر چکے تھے میں نے سوچااچھا ہے کون بار بار وہی پورانی نماز روزے کی باتیں سنتا ۔میں مسجد پہنچااوردیکھتا ہوں کہ ہر عمر کے لوگ مختلف لباس اور مختلف قسم کی ٹوپی پہنے ہوےٓ ماجود تھے خیر میں داخل ہوتے ہی اپنے لیے بیھٹنے کے لیےجگہ کا انتخاب کرنے لگا اور ایک ایسی جگہ کا انتخاب جو صدر دروازے کے قریب تھی تاکہ نماز ختم ہوتے ہی میں آسانی سے مسجد سے نکل سکوں۔ مولانا صاحب نے خطبہ جمعہ شروع کیا پھر مولانا صاحب کی اللہ  اکبر کی تکبیرپر ہر عام و خاص نے اپنی نماز کا آغاز کیا اور جیسے ہی مولانا صاحب نے نماز سے سلام پھیرا تو میں اپنے جوتوں کی طرف لپکا اور جوتے پہن کر مسجد سے باہر آ گیا مولانا صاحب نماز کے بعد شام،کشمیر، غزہ اوراسراہیل کے لیےٓ دعاہیں کرواتے رہے خیرمیری دروازے کے نزدیک بھیٹنےکی ترکیب کام آہی سب سے ٓاخر میں مسجد میں داخل ہوہا اور سب پہلے مسجد سے باہر آ گیا پھر میں اپنے محلے کی ایک دوکان پہ جا پہنچا جس کا دوکاندار میرا جاننے والا تھا عجیب بندہ ہے پتا نہیں کیسے مجھ سے بھی پھلے وہ دوکان پہ پہنچ آتا ہے، کچھ دیر اس کے پاس رکا دوچار سگریٹ سلگاہے اور پھر گانے گنگناتے ہوہے گھر کی طرف چل دیا ۔۔او یار اسلام میں زبردستی نہیں

                                                                          گونگی ہو گیٓ آج کچھ زبان کہتے  کہتے            ہچکچا گیا میں خود کو مسلمان  کہتے کہتے

                         جنید پرویز

sardarjd@yahoo.com

Related posts

Leave a Comment