ڈگری بنگلہ بیس کیمپ۔۔ اور ۔۔ صحافت کے درخشاں ستارے


( تحریر : زردار اعوان )

کل صبح گیارہ بجے ہم اپنے صحافی بھائیوں کے ساتھ ایبٹ آباد پریس کلب سے گلیات کے خوبصورت ترین اور بلند ترین سپاٹس میرن جانی، ڈگری بنگلہ اور لال خان ڈیرہ کے لیے عازمِ سفر ہوۓ۔ صحافی بھائیوں میں نعیم اعوان صاحب، عبدالواسع خان صاحب ، سردار راشد خان صاحب، جناب یاور صاحب، قیصر صاحب، سیف راجپوت صاحب اور جنید خان عباسی صاحب شامل تھے۔ ساڑھے بارہ بجے ہم نے گاڑی دومیل کے مقام پہ پارک کی اور وہاں سے جیپ میں سفر شروع ہوا، گورنمنٹ ہائی سکول پھلکوٹ کے پاس بہتی ندیا کے ٹھنڈے اور شفاف پانی کو انجواۓ کرنے والے نعیم اعوان صاحب، راشد خان صاحب، اور سیف راجپوت صاحب کو بھی ساتھ جیپ میں بٹھایا اور کٹلی کی طرف روانہ ہو گئے۔ ہچکولے کھاتی جیپ بلندی کی طرف بڑھتی گئی اور ہم چھ ہزار فٹ بلند گاٶں کٹلی میں جا کے رکی۔ قریب ہی ہمارے بہت قابلِ احترام بھائی اور اس منصوبہ کے لیے ہمہ وقت انتھک محنت کرنے والے نذیر اعوان بھائی نے پر تکلف ظہرانے کا اہتمام کر رکھا تھا۔ نذیر بھائی کے گھر کا صحن، ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا اور کھانے کی مہک بڑی ہی بھلی معلوم ہو رہی تھی۔ سب نے لنچ کیا اور گرماگرم چاۓ نوش کی۔ اور سب کی یہ خواہش تھی کہ موسم خراب ہو رہا ہے کسی طرح ہم ڈگری بنگلہ تک پہنچ جائیں۔ بل کھاتے راستوں پہ چڑھائی چڑھنا شروع ہوۓ، شوق و جستجو ہر قدم کے ساتھ بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ راستے میں پڑے پتھروں سے کبھی پیر ڈگمگاۓ بھی عزم نے پرواہ نہ کی اور ہم ڈگری بنگلہ و میرن جانی کے بیس کیمپ (رونٹی) پہنچ گئے ۔تیز یخ ٹھنڈی ہوا اور بارش کی موٹی موٹی بوندوں اور ساتھ میں برف کے اکادکا گالوں نے ہمارا استقبال کیا۔ ہم سب نے یہی جانا کہ موسم کے تند و تیز اور برہم مزاج سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ یہاں پہ ہی قیام کیا جاۓ اور برف زاروں کے نظاروں سے لطف اندوز ہوا جاۓ۔ ہم وہاں پہ سیزنل آبادی کے ایک گھر میں چلے گئے جب سردی نے بہت شدت پکڑ لی تو آگ کا الاٶ روشن کر لیا اور گرد بیٹھ گئے۔

پون گھنٹے انتظار کے بعد جب بارش و ہوا کے مزاج میں برہمی کے بجاۓ لطف و پیار آنا شروع ہوا تو ہم مکان کی چھت پہ چلے گئے اور زمیں پہ جنت کی خوب عکسبندی کی۔ تاثرات ریکارڈ کیے۔ صحافی بھائیوں کو مکمل معلومات فراہم کیں۔ ویڈیوز بنائیں گئیں اور جیسے ہی ہوا کا پریشر کم ہوا اور موسم صاف ہونا شروع ہوا تو ڈرون کیمرا کے ذریعے پورے خطے کی عکسبندی کی گئی۔ صحافی بھائیوں کو یہ جنت نظیر وادیاں بہت پسند آئیں۔ واپس مڑے اور کٹلی سے کچھ پہلے سے پھر ڈرون کیمرا کو اڑیا گیا اور ٹھنڈیانی و بیرنگلی اور دیگر ایریاز کی ویڈیو بنائی گئی۔

واپسی پہ شام کے وقت ذوالفقار بھائی کے گھر گرما گرم چاۓ اور ابلے ہوۓ انڈے کھاۓ جن کا ذائقہ بہت منفرد تھا۔ شاید یخ ہوا، ساڑھے چھ ہزار فٹ بلندی بالکل سامنے برف سے ڈھکے فلک بوس پہاڑ شام کا سمے ، گرما گرم چاۓ اور ابلے ہوۓ انڈوں کا اپنا ہی ایک مزہ تھا۔
کٹلی گلی سے اہلیان کٹلی اور اہلیانِ پھلکوٹ نے پیار و محبت، خلوص و چاہت اور دلی شکریہ کے ساتھ اپنے صحافی بھائیوں کو الوداع کیا۔

Related posts

Leave a Comment